Topic - Ghazala

Ghazala
یہ ہے میکدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے،
یہ حرم نہیں ہے اے شیخ جی یہاں پارسائی حرام ہے.

یہ جناب شیخ کا فلسفہ جو سمجھ میں میری نہ آ سکا،
جو وہاں پیؤ تو حلال ہے جو یہاں پیؤ تو حرام ہے.

جو ذرا سی پی کے بہک گیا اسے میکدے سے نکال دو،
یہاں کم نظر کا گزر نہیں یہاں اہلِ ظرف کا کام ہے.

کوئی مست ہے کوئی تشنہ لب تو کسی کے ہاتھ میں جام ہے،
مگر اب اس میں کوئی کرے بھی کیا یہ تو میکدے کا نظام ہے.

تجھے اپنے حُسن کا واسطہ میرے شوقِ دید پہ رحم کھا،
ذرا مسکرا کر نقاب اُٹھا کہ نظر کو شوقِ سلام ہے.

نہ سنا تو حور و قصور کی یہ حکایتیں مجھے واعظا،
کوئی بات کر درِ یار کی درِ یار ہی سے تو کام ہے.

نہ تو اعتکاف سے کچھ غرض نہ ثواب و زہد سے واسطہ،
تیری دید ایسی نماز ہے نہ سجود ہے نہ قیام ہے.

یہ درست کہ عیب ہے میکشی یہ بجا کہ بادہ حرام ہے،
مگر اب سوال یہ آپڑا کہ تمھارے ہاتھ میں جام ہے.

جو اٹھی تو صبحِ دوام تھی جو جھکی تو شام ہی شام تھی،
تیری چشمِ مست میں ساقیا میری زندگی کا نظام ہے.

میرا فرض ہے کہ پڑا رہوں تیری بارگاہ میں ساقیا،
کوئی تشنہ لب ہے کہ سیر ہے یہی دیکھنا تیرا کام ہے.

ابھی اس جہان میں اے جگر کوئی انقلاب اٹھے گا پھر،
کہ بلند ہو کے بھی آدمی ابھی خواہشوں کا غلام ہے..!

(جگر مرادآبادی)

Subsection: Urdu SMS
Section: SMS Zone

Topic Files
Last edited REHAN - 8 Mar 2024, 11:39
Latest Activity: 30 Mar 2026, 23:27
Comments 2
چلو اب مان جاؤ تم
بہت انمول سی گھڑیاں
بہت نایاب سے لمحے
ستم گر وقت کے پنجے میں
آ کر کھو گئے ہم سے
بہت ضدی اگر ہو تم؟
تو ہم بھی ہیں بہت خود سر
مگر اک بات بتلاؤں
بچھڑ کر ہم نے کیا پایا؟
تیری خوشیاں جدا ہم سے
میرے سپنے خفا مجھ سے
تیری راتیں بھی صدیوں سی
میرے بھی دن نہیں کٹتے
چلو اک پل کو سوچیں ہم
کہ ان سب رائیگاں باتوں سے
آخر کیا ملا ہمکو؟؟
چلو اب مان جاؤ تم....
چلو اب مان جاؤ تم.....!!!
30 Mar 2026, 23:27
0
جب تیری ُدھن میں جیا کرتے تھے
ہم بھی چپ چاپ پھرا کرتے تھے

آنکھ میں پیاس ہوا کرتی تھی
دل میں طوفان اٹھا کرتے تھے

لوگ آتے تھے غزل سننے کو
ہم تری بات کیا کرتے تھے

سچ سمجھتے تھے تیرے وعدوں کو
رات دن گھر میں رہا کرتے تھے

کسی ویرانے میں تجھ سے مل کر
دل میں کیا پھول کھلا کرتے تھے؟

گھر کی دیوار سجانے کے لئے
ہم تیرا نام لکھا کرتے تھے

وہ بھی کیا دن تھے ُبھلا کر تجھ کو
ہم تجھے یاد کیا کرتے تھے

جب تیرے درد میں دل دکھتا تھا
ہم تیرے حق میں دعا کرتے تھے

بجھنے لگتا تھا جو چہرہ تیرا
داغ سینے میں جلا کرتے تھے

اپنے جذبوں کی کمندوں سے تجھے
ہم بھی تسخیر کیا کرتا تھے

اپنے آنسو بھی ستاروں کی طرح
تیرے ہونٹوں پہ سجا کرتے تھے

چھیڑتا تھا غم ِ دنیا جب بھی
ہم تیرے غم سے ِگلا کرتے تھے

کل تجھے دیکھ کے یاد آیا ہے
ہم سُخنور بھی ہوا کرتے تھے
23 Jan 2026, 23:23
0
Sorry, comments are not available for you
Back
Advertisement

Best Advertising Website
Advertise with Anonymous Ads