Blog - ذیابطیس کیوں ہوتی ہے

ذیابطیس کیوں ہوتی ہے



ذیابیطس کیوں ہوتی ہے؟

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آخر ذیابیطس (شوگر) ہوتی کیوں ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو ہر گھر میں کسی نہ کسی کے ذہن میں ضرور آتا ہے۔ آج کل تو یوں لگتا ہے جیسے شوگر ہر دوسرے شخص کو ہو رہی ہے۔ چاہے وہ دادا جان ہوں، چچا جان، یا پھر کوئی جوان لڑکا یا لڑکی۔

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ "بہت میٹھا کھانے سے شوگر ہوتی ہے"۔ لیکن کیا واقعہ اتنا سادہ ہے؟ آئیے، آج ہم بالکل آسان اور دوستانہ انداز میں سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ آخر ذیابیطس کی اصل وجوہات کیا ہیں۔ یہ مضمون پڑھنے کے بعد آپ خود کو ایک ماہر سمجھنے لگیں گے، اور سب سے اچھی بات یہ کہ آپ اپنی اور اپنوں کی بہتر حفاظت کر سکیں گے۔

تو چائے یا کافی کا کپ لیجیے، آرام سے بیٹھیے، اور یہ اہم معلومات دوستانہ لہجے میں پڑھیے۔

پہلا باب: ذیابیطس ہے کیا چیز؟

سب سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ ذیابیطس کوئی چھوت کی بیماری نہیں۔ یہ ہمارے جسم کا ایک میٹابولک مسئلہ ہے۔ اب میٹابولک کا مطلب ہے ہمارے جسم میں کھانے کو توانائی میں بدلنے کا نظام۔

آسان الفاظ میں: ہم جو کچھ کھاتے ہیں، خاص طور پر روٹی، چاول، آلو، اور میٹھی چیزیں، یہ سب ہمارے جسم میں گلوکوز (شکر) میں بدل جاتا ہے۔ گلوکوز ہمارے جسم کی توانائی ہے۔ لیکن یہ گلوکوز خون میں پڑا رہے تو ٹھیک نہیں، اسے جسم کے خلیات (سیلز) تک پہنچنا ہے۔ یہاں آتا ہے ہیرو یعنی انسولین۔

انسولین ایک ہارمون ہے جو ہمارے لبلبے (پینکریاز) سے بنتا ہے۔ یہ دروازے کھولنے والی چابی کی طرح ہے۔ یہ چابی (انسولین) آکر خلیات کے دروازے کھولتی ہے، اور گلوکوز اندر چلا جاتا ہے، جہاں سے ہمیں توانائی ملتی ہے۔

ذیابیطس کا مطلب ہے کہ یہ نظام بگڑ گیا ہے۔ یا تو چابی (انسولین) کافی نہیں بن رہی، یا پھر چابی تو ہے لیکن تالے بدل گئے ہیں (خلیات نے انسولین کو جواب دینا چھوڑ دیا ہے)۔ نتیجہ؟ خون میں شکر بڑھ جاتی ہے۔ اور یہ بڑھی ہوئی شکر وقت کے ساتھ پورے جسم کو نقصان پہنچاتی ہے۔

اب آتے ہیں اصل سوالات کی طرف۔

دوسرا باب: ذیابیطس کی دو بڑی اقسام اور ان کی وجوہات

عام طور پر ذیابیطس دو قسم کی ہوتی ہے۔ ان کی وجوہات بھی مختلف ہیں۔

1. ٹائپ 1 ذیابیطس – جب جسم خود سے لڑنے لگے

یہ قسم بچوں اور نوجوانوں میں زیادہ دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس میں لبلبہ (پینکریاز) انسولین بنانا ہی چھوڑ دیتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ جسم کا مدافعتی نظام (امینیٹی سسٹم) جو جراثیم سے لڑتا ہے، غلطی سے لبلبے کے ان خلیوں پر حملہ کر دیتا ہے جو انسولین بناتے ہیں۔ یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں، یہ خودکار مدافعتی بیماری ہے۔

وجوہات:

· جینیاتی اثر (وراثت): اگر خاندان میں کسی کو ٹائپ 1 ہے تو تھوڑا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔
· وائرل انفیکشن: کچھ وائرسز (جیسے روبیلا یا کوکساکی وائرس) شاید اس غلط حملے کو ٹرگر کرتے ہیں۔
· ماحولیاتی عوامل: ابھی تحقیق جاری ہے، لیکن ماحول میں کچھ ایسا ضرور ہے جو حساس لوگوں میں یہ ردعمل شروع کراتا ہے۔

اچھی بات یہ کہ ٹائپ 1 کو روکا نہیں جا سکتا، اور نہ ہی یہ زیادہ میٹھا کھانے سے ہوتی ہے۔ لیکن مریض انسولین لے کر بالکل نارمل زندگی گزار سکتے ہیں۔

2. ٹائپ 2 ذیابیطس – 95 فیصد مریض یہی ہیں (اور یہ وہ ہے جسے ہم روک سکتے ہیں)

یہ وہ ذیابیطس ہے جو آج کل ہر جگہ دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس میں لبلبہ تو انسولین بناتا ہے، لیکن خلیات نے اسے اگنور کرنا شروع کر دیا ہے۔ اسے "انسولین ریزسٹنس" کہتے ہیں۔ یعنی خلیات بہرے ہو گئے ہیں۔ جب خلیات جواب نہیں دیتے تو لبلبہ اور زیادہ انسولین بنانے لگتا ہے، آخرکار وہ تھک جاتا ہے اور انسولین کم ہونے لگتی ہے۔

یہ وہ ذیابیطس ہے جس کی بڑی وجوہات ہماری اپنی عادات اور طرزِ زندگی ہیں۔ اور یہی وہ ہے جسے ہم روک سکتے ہیں اور کنٹرول کر سکتے ہیں۔

تیسرا باب: ٹائپ 2 ذیابیطس کی اصل اصلی وجوہات (گہرائی میں جائیں)

اب ہم ان وجوہات پر بات کریں گے جو آپ میں اور مجھ میں سب سے زیادہ شوگر کا خطرہ بڑھاتی ہیں۔ یہ وہ الفاظ ہیں جو آپ کو اپنی ڈائری میں لکھنے چاہئیں۔

1. موٹاپا (خاص طور پر پیٹ کی چربی) - سب سے بڑا دشمن

یہ کوئی راز نہیں ہے۔ جتنا پیٹ باہر نکلے گا، شوگر کا خطرہ اتنا ہی بڑھے گا۔ لیکن کیوں؟ پیٹ کی چربی صرف وہاں پڑی نہیں رہتی، وہ کیمیکلز بناتی ہے جو جسم میں سوزش (انفلیمیشن) بڑھاتے ہیں۔ یہ سوزش خلیات کو انسولین کے خلاف مزاحم بنا دیتی ہے۔ سادہ زبان میں، پیٹ کی چربی آپ کے جسم میں انسولین کی چابی کو زنگ لگا دیتی ہے۔

اگر آپ کا پیٹ کسی حد سے زیادہ ہے (مردوں میں 40 انچ سے زیادہ، خواتین میں 35 انچ سے زیادہ)، تو یہ خطرے کی گھنٹی ہے۔

2. بیٹھے رہنا (سستی - ایک خاموش قاتل)

پرانے زمانے میں لوگ صبح سے شام تک محنت کرتے تھے۔ ہم آج کل اٹھیں تو کرسی، جائیں تو گاڑی، بیٹھیں تو صوفہ، سو جائیں تو بستر۔ جسم حرکت کی بھوکا ہے۔ جب ہم ورزش نہیں کرتے تو ہمارے مسلز (پٹھے) کمزور ہو جاتے ہیں، اور مسلز ہی وہ ہیں جو گلوکوز کو سب سے زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ جب مسلز کام نہیں کرتے، شکر خون میں پڑی رہ جاتی ہے۔

روزانہ کم از کم 30 منٹ کی تیز چہل قدمی بھی آپ کے شوگر کے خطرے کو آدھا کر سکتی ہے۔

3. کھانے کی غلط عادات (صرف میٹھا نہیں، پورا نظام)

جی ہاں، صرف مithai کھانے سے شوگر نہیں ہوتی، لیکن کچھ کھانے مسلسل کھانے سے ضرور ہوتی ہے:

· ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹ: سفید روٹی، میدے سے بنی چیزیں، سفید چاول، نوڈلز۔ یہ چیزیں بہت تیزی سے شکر میں بدل جاتی ہیں، جس سے بلڈ شوگر پہاڑ کی طرح چڑھتی اور اچانک گرتی ہے۔
· میٹھے مشروبات: کوک، شربت، پیکڈ جوس۔ یہ مائع شکر ہے، اور یہ براہ راست جگر پر حملہ کرتی ہے۔
· ٹرانس فیٹس اور پراسیسڈ فوڈ: بسکٹ، پیکڈ سنیکس، فرنچ فرائز۔ یہ چیزیں کھانے میں تو مزیدار لگتی ہیں، لیکن یہ سوزش بڑھاتی ہیں اور خلیات کو انسولین کے خلاف مزاحم بناتی ہیں۔

فوری مشورہ: گھر کی سادہ روٹی، دال، سبزیاں، اور تازہ پھل کھائیں۔ دہی اور چھاچھ جیسی چیزوں کو ترجیح دیں۔

4. خاندانی تاریخ (وراثت - آپ کی تقدیر نہیں بلکہ ایک خبردار کرنے والی گھنٹی)

اگر آپ کے والد، والدہ، یا بھائی بہن کو ذیابیطس ہے تو آپ کا خطرہ زیادہ ہے۔ یہ مت سوچیں کہ "ہاں یہ تو میرے نصیب میں لکھا ہے، اب کیا کر سکتے ہیں"۔ نہیں! جینیات بندوق ہے، لیکن طرزِ زندگی وہ ہے جو ٹرگر دباتا ہے۔

اگر خاندان میں شوگر ہے تو آپ کو دوسروں سے دس گنا زیادہ محتاط رہنا ہے۔ اپنی خوراک اور ورزش پر خصوصی توجہ دیں۔

5. بڑھتی ہوئی عمر (حقیقت کو نہیں چھپا سکتے)

عمر بڑھنے کے ساتھ لبلبہ تھوڑا سست ہو جاتا ہے اور خلیات بھی انسولین کے لیے کم حساس ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے 45 سال کے بعد ذیابیطس کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ اگر آپ باقی چیزوں کا خیال رکھیں، تو بڑھتی عمر کے باوجود آپ شوگر سے بچ سکتے ہیں۔

6. نیند کی کمی (رات کو جاگنے کا نقصان)

جدید دور میں ہم نے نیند کو ترجیحوں میں آخری نمبر پر رکھ دیا ہے۔ موبائل، نیٹ فلکس، دیر رات کے کھانے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ جو لوگ رات کو 6 گھنٹے سے کم سوتے ہیں، ان میں انسولین ریزسٹنس بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ نیند کی کمی آپ کے جسم کے ہارمونز بگاڑ دیتی ہے۔ جب آپ سو نہیں رہے ہوتے، تو آپ کا لبلبہ بھی آرام نہیں کرتا۔ 7-8 گھنٹے کی گہری نیند ذیابیطس سے بچاؤ کا ایک سستا اور بہترین نسخہ ہے۔

7. زیادہ دباؤ (سٹریس) - دماغ کا حملہ جسم پر

آج کل ہر کسی کو ٹینشن ہے۔ پیسے کی، نوکری کی، بچوں کی، گھر کی۔ جب ہم سٹریس میں ہوتے ہیں، تو ہمارا جسم کورٹیسول اور ایڈرینالین جیسے ہارمونز بناتا ہے۔ ان ہارمونز کا کام یہ ہے کہ وہ فوری طور پر خون میں شکر بڑھا دیں تاکہ آپ لڑ سکیں یا بھاگ سکیں (یہ پرانی انسان کی بقا کا نظام تھا)۔ لیکن آج کل ہم نہیں لڑتے نہ بھاگتے، ہم بس بیٹھ کر پریشان ہوتے رہتے ہیں۔ نتیجہ: بلڈ شوگر اونچی رہتی ہے اور وقت کے ساتھ ذیابیطس بن جاتی ہے۔

آسان حل: کچھ دیر گپ شپ کریں، واک پر جائیں، کوئی مشغلہ اپنائیں، یا گہری سانس لیں۔ تناؤ کو کم کرنا بہت ضروری ہے۔

آخری کچھ اہم وجوہات جو اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہیں:

· حمل کی شوگر (Gestational Diabetes): کچھ خواتین کو حمل کے دوران شوگر ہو جاتی ہے۔ یہ عارضی ہوتی ہے لیکن یہ ایک خطرے کا نشان ہے کہ بعد میں ٹائپ 2 ذیابیطس ہو سکتی ہے۔
· کچھ دوائیں: سٹیرائڈز، بعض بلڈ پریشر کی دوائیاں، اور اینٹی سائیکوٹک دوائیں شوگر بڑھا سکتی ہیں۔
· پولی سسٹک اووری سنڈروم (PCOS): خواتین میں یہ ہارمونل مسئلہ بھی انسولین ریزسٹنس کا باعث بنتا ہے۔

نتیجہ اور امید کی کرن

دوستو، ذیابیطس کی زیادہ تر وجوہات، خاص طور پر ٹائپ 2، ہمارے کنٹرول میں ہیں۔ جینیات اور عمر تو ہمارے ہاتھ میں نہیں، لیکن ہم اپنی خوراک، ورزش، نیند، اور تناؤ کا انتظام ضرور کر سکتے ہیں۔

یاد رکھیے گا:

· ذیابیطس صرف "میٹھا چھوڑنے" کا نام نہیں ہے۔ یہ پورے طرزِ زندگی کو بدلنے کا نام ہے۔
· چہل قدمی سب سے بڑی دوا ہے۔
· اپنا وزن معمول پر رکھیے، خاص طور پر پیٹ کی چربی کم کیجیے۔
· پوری رات کی نیند لیجیے۔
· اور ہاں، وقتاً فوقتاً شوگر چیک کراتے رہیے، خاص طور پر اگر عمر 35 سے زیادہ ہے یا خاندان میں شوگر ہے۔

ذیابیطس کوئی موت کی سزا نہیں ہے۔ لاکھوں لوگ اس کے ساتھ بہترین زندگی گزار رہے ہیں، لیکن بہتر ہے کہ آج ہی سے احتیاط شروع کر دیں۔ کیونکہ ایک بار ذیابیطس ہونے کے بعد پھر آپ کو ہر وقت اپنے کھانے پینے کا حساب رکھنا پڑتا ہے۔ روک تھام علاج سے کہیں بہتر ہے۔

امید ہے یہ مضمون آپ کے لیے مفید رہا ہوگا۔ اسے اپنے ان دوستوں اور رشتہ داروں میں ضرور شئیر کیجیے جنہیں آپ شوگر کے خطرے میں دیکھتے ہیں۔ ایک چھوٹی سی آگاہی کسی کی زندگی بچا سکتی ہے۔

اپنا اور اپنوں کا خیال رکھیں۔ شکریہ!

Health
Comments 0
No comments yet
Sorry, comments are not available for you
All Blogs
Advertisement

www.Pakweb.pro
Fastest News Updates Pakistani Website