Blog - Trump Going To UN Security Council

Trump Going To UN Security Council



ایران کے خلاف عالمی برادری کی مدد مانگنے کےلیے ٹرمپ سلامتی کونسل جا رہا ہے ۔ اگر ایران یہاں بھی قابو نہ آیا تو کیا کرے گا ٹرمپ؟ پہلے جب گیا تھا تو چین اور روس نے ویٹو کر دیا تھا۔ اب پھر یہی ہو گا اور چین اور روس اس بار صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ اسرائیل کو بھی تگنی کا ناچ نچا سکتے ہیں ایران کے مسئلے پر۔ ٹرمپ نے بورڈ آف پیس بنا کر جو غلطی کی تھی اب وہی غلطی سکیورٹی کونسل میں گلے پڑنے جا رہی ہے۔
سکیورٹی کونسل کے مقابلے پر ٹرمپ نے اپنی ایک کونسل بنا کر قانونی غلطی کی۔ کیوں کہ اس سے سوال کھڑا ہوتا ہے کہ اگر سکیورٹی کونسل کے ہوتے ہوئے ٹرمپ نے بورڈ آف پیس بنایا ہے تو کیا سکیورٹی کونسل غیر مؤثر ہے؟ اگر نہیں تو بورڈ آف پیس کی کیا ضرورت ہے؟ موجودہ سکیورٹی کونسل میں چین اور روس کے پاس بھی ویٹو پاورز ہیں۔ بورڈ آف پیس میں ایسا کوئی چکر نہیں تھا لہذا اسے چین اور روس دونوں نے مسترد کر دیا۔ اب بورڈ آف پیس کے ہوتے ہیں ٹرمپ سکیورٹی کونسل میں مسئلہ لے کر جا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلنی چاہیے۔ یعنی خود اپنے طور پر ٹرمپ نہیں کھلوا سکتا۔۔
روس کیوں اس قرار داد کے حق میں ووٹ ڈالے گا جب کہ اس کا تیل اور گیس کا کاروبار چمک گیا ہے۔ چین کیوں امریکہ کی حمایت میں ووٹ دے گا جب تائیوان کے معاملے میں امریکہ چین کی۔مرضی کے خلاف سپورٹ کرتا ہے؟ لہذا اس قرارداد کو دونوں ملک چٹکیوں میں اڑا دیں گے۔ ویٹو کا اصول یہ ہے کہ جن کے پاس ویٹو پاور موجود ہے ان ملکوں میں سے کوئی ایک بھی ویٹو کر دے تو قرار داد مسترد ہو جاتی ہے۔ میرے خیال میں چین اور روس کا نکتہ نظر یہ ہو گا کہ جب جنگ شروع کرنی تھی تب کیا مسئلہ سکیورٹی کونسل میں لے کر آیا تھا ٹرمپ؟ اگر لیکر آیا ہوتا تو چین اور روس اسی وقت جنگ کے فیصلے کو ویٹو کر دیتے جس سے جنگ نہ ہوتی۔ نہ جنگ ہوتی نا آبنائے ہرمز بند ہوتی۔ اب جب کہ سارے کیے کروائے پہ پانی پھیر چکا ہے ٹرمپ، دنیا کی معیشت کو جھٹکا لگ چکا ہے۔ ایران پوائنٹ آف نو ریٹرن پہ جا چکا ہے۔ مزاکرات کی حمایت کرنے والی ایرانی قیادت امریکہ مار چکا ہے۔ تو اب سکیورٹی کونسل میں کیوں آیا ہے؟ تب ہر کام اپنی مرضی سے کیا۔ اب بھی اپنی مرضی سے آبنائے ہرمز کھلوا لے نا۔
پھر یہ نکتہ بھی چین اور روس اٹھا سکتے ہیں کہ اسرائیل کے اگریشن کا ذکر نہیں ہے قرارداد میں۔ یعنی یا تو امریکہ سکیورٹی کونسل میں اعتراف کرے کہ قصور اسرائیل کا تھا اور یقین دہانی کروائے کہ دوبارہ جنگ نہیں ہو گی، تو سمجھ بھی آتی ہے کہ سکیورٹی کونسل کی گارنٹی پر آبنائے ہرمز کھلوا دی جائے۔ لیکن اگر ایسی کوئی گارنٹی ہی نہیں تو چین اور روس کیوں ہرمز کھلنے کےلیے ووٹ دیں گے۔ وہ یقیناً ویٹو پاور کا استعمال کر کے امریکہ کو بے بس کر سکتے ہیں اس بار پھر۔

General
Comments 0
No comments yet
Sorry, comments are not available for you
All Blogs
Advertisement

Register on Easypaisa App Win 1000Rs
Download Telenor Easypaisa App